اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے انتونیو گوتریس، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں اور اسرائیل کے حملوں سے خطے کے امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جی بی یو-43/بی نامی طاقتور بم، جسے ’’مدر آف آل بمز‘‘ کہا جاتا ہے، ایران کے خلاف استعمال کرنے کے امکان اور اسرائیلی حکام کی جانب سے ایرانی توانائی کے تمام مراکز کو نشانہ بنانے کے بیانات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق اطلاعات
خط کے مطابق، 15 اکتوبر 2026 کو امریکی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ایسے فوجی منصوبے تیار کیے ہیں جن میں ایران کے خلاف ’’مدر آف آل بمز‘‘ کے ممکنہ استعمال کا آپشن بھی شامل ہے۔ اسی روز امریکی صدر نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں اس ہتھیار کا ذکر کرتے ہوئے ایران کو مزید حملوں کی دھمکی دی۔
ایرانی سفیر نے مزید لکھا کہ 18 اکتوبر 2026 کو اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے ایران پر حملے کے لیے تیاری کا اعلان کیا اور کہا کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں ایران کے تمام توانائی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ خط کے مطابق، کاٹز نے اس کارروائی کا مقصد ایران کو ’’پتھر کے دور‘‘ میں واپس پہنچانا قرار دیا۔
خط میں اسرائیلی وزیر جنگ کے اس دعوے کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مجموعی طور پر ایران پر 35 ہزار بم گرا چکے ہیں اور ان کی فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ایرانی سفیر نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیانات کو بھی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک کی خاموشی اور کھلی حمایت نے اسرائیلی حکومت کو مزید جارحانہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
ایران کا مؤقف: شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں عالمی قانون کی خلاف ورزی ہیں
خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں، شہریوں پر حملے اور اہم قومی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی مزید خلاف ورزیوں کا خطرہ بڑھا رہے ہیں، جن کے انسانی اور علاقائی امن و سلامتی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
غلام حسین درزی کے مطابق، ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے تمام مراکز کو تباہ کرنے کی دھمکیاں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی میں خوف پھیلانے اور اہم شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کی دھمکیاں انسانی اور ماحولیاتی سطح پر طویل مدتی نقصانات کا باعث بن سکتی ہیں۔
خط میں امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ 1949 کے جنیوا کنونشنز سمیت بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی نہیں کر رہے۔
سلامتی کونسل سے چار مطالبات
ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ:
-
امریکہ اور اسرائیل سے غیر قانونی دھمکیاں بند کرنے اور اقوام متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔
-
ایران اور اس کے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی دھمکیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی جائے۔
-
علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر غور کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے اور ذمہ دار فریقوں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔
-
ایران کے خلاف مبینہ غیر قانونی اقدامات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور مکمل معاوضے کو یقینی بنایا جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل ایران کے خلاف نئی جارحیت اور شہری تنصیبات کی تباہی کی واضح دھمکیوں پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ ایسا نہ کرنے سے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانونی نظام مزید کمزور ہوں گے۔
ایران کا حقِ دفاع پر زور
ایرانی سفیر نے خط میں اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت ایران کے حقِ دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے عوام، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کو لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی تو ایران بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے اعلیٰ قومی مفادات کے دفاع میں فیصلہ کن جواب دے گا۔
ایران نے کسی بھی نئی جارحیت اور اس کے نتیجے میں کشیدگی کے غیر متوقع اور بے قابو اضافے کی مکمل ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد کی ہے۔
خط کے آخر میں درخواست کی گئی ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی سرکاری دستاویز کے طور پر تقسیم کیا جائے۔
غلام حسین درزی سفیر اور ناظم الامور، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن
آپ کا تبصرہ